ولادت با سعادت امام حسن بن علی عسکری علیہ السلام
حسن عسکری (پیدائش: 3 دسمبر 846ء— وفات: یکم
جنوری 874ء) آپ امام علی نقی علیہ السّلام
کے فرزند ہیں
ابو محمد کنیت حسن نام اور سامرہ کے محلہ عسکر
میں قیام کی وجہ سے عسکری علیہ السّلام مشہور لقب ہے والد بزرگوار حضرت امام علی
نقی علیہ السّلام اور والدہ سلیل خاتون تھیں جو عبادت, ریاضت عفت اور سخاوت کے
صفات میں پانے طبقے کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی تھیں.
ولادت۔
آپ کی ولادت بروز جمعہ 10 ربیع الثانی 232ھ
مطابق 3 دسمبر 846ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
نشو و نما اور تربیت۔
بچپن کے گیارہ سال تقریباً اپنے والد بزرگوار
کے ساتھ وطن میں رہے جس کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ اطمینان سے گزرا۔ اس کے بعد
امام علی نقی علیہ السّلام کو سفر عراق درپیش ہو گیا اور تمام متعلقین کے ساتھ
ساتھ امام حسن عسکری علیہ السّلام اسی کم سنی کے عالم میں سفر کی زحمتوں کو اٹھا
کر سامرا پہنچے۔ یہاں کبھی قید کبھی آزادی, مختلف دور سے گزرنا پڑا مگر ہر حال میں
آپ اپنے بزرگ مرتبہ والد کے ساتھ ہی رہے۔
اس طرح باطنی اور ظاہری طور پر ہر حیثیت سے آپ علیہ السّلام کو اپنے والد بزرگوار
کی تربیت وتعلیم سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکا۔
زمانہ امامت۔
254ھجری میں آپ کی
عمر بائیس برس کی تھی جب آپ کے والد بزرگوار حضرت امام علی نقی علیہ السّلام کی
وفات ہوئی حضرت علیہ السّلام نے اپنی وفات سے چار مہینہ قبل آپ کے متعلق اپنے وصی
وجانشین ہونے کااظہار فر ما کر اپنے اصحاب کی گواہیاں لے لی تھیں۔ اب امامت کی ذمہ
داریاں امام حسن عسکری علیہ السّلام کے متعلق جنھیں آپ باوجود شدیدمشکلات اور سخت
ترین ماحول کے ادا فرماتے رہے۔
اخلاق و اوصاف۔
آپ علم وحلم, عفو وکرم, سخاو ت وایثار سب ہی
اوصاف میں بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم
تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے معتمد نے جس سے آپ کے متعلق دریافت
کیا یہی معلوم ہوا کہ آپ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور
سوائے ذکر الٰہی کے کسی سے کوئی کلام نہیں فرماتے, اگرچہ آپ کو اپنے گھر پر آزادی
کے سانس لینے کا موقع بہت کم ملا۔ پھر بھی جتنے عرصہ تک قیام رہا اور دور دراز سے
لوگ آپ کے فیض و عطا کے تذکرے سن کر اتے تھے اور بامراد واپس جاتے تھے۔ آپ کے
اخلاق واوصاف کی عظمت کا عوام وخواص سب ہی کے دلوں پر سکہ قائم تھا۔ چنانچہ جب
احمد بن عبد اللہ بن خاقان کے سامنے جو خلیفہ عباسی کی طرف سے شہر قم کے اوقات
وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلیٰ تھا سادات علوی کاتذکرہ اگیا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے
کوئی حسن علیہ السّلام عسکری سے زیادہ مرتبہ اور علم دورع, زہدو عبادت،وقار وہیبت,
حیاوعفت, شرف وعزت اور قدرومنزلت میں ممتاز اور نمایاں نہں معلوم ہوا۔ اس وقت جب
امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہیز وتکفین میں
مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمین نے اثاث اللبیت وغیرہ میں سے کچھ چیزیں غائب کر دیں
اور انھیں خبر تک نہ تھی کہ امام علیہ السّلام کو اس کی اطلاع ہو جائے گی۔ جب تجہیز
اور تکفین وغیرہ سے فراغت ہوئی تو آپ نے ان نوکروں کو بلایا اور فرمایا کہ جو کچھ
پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بیان کرو گے تو میں تمھیں معاف کردوں گا اور سزا
نہ دوں گا لیکن اگر غلط بیانی سے کام لیا تو پھر میں تمھارے پاس سے سب چیزیں بر
امد بھی کرالوں گا اور سزا بھی دوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ہر ایک سے ان اشیا ء کے
متعلق جو اس کے پا س تھیں دریافت کیا اور جب انھوں نے سچ بیان کر دیا تو ان تمام چیزوں
کو ان سے واپس لے کر آپ نے ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی اور معاف فرمادیا۔
شہادت۔
علمی و دینی مشاغل میں مصروف انسان کو سلطنت
وقت کے ساتھ کبھی بھی مزاحمت کا کوئی خیال پیدا نہیں ہو سکتا، تبلیغ دین اور اسلام
و انسانیت کا فروغ ان کا مقصد زیست ہوتا ہے ان کا بڑھتا ہوا روحانی فیض اور علمی
مرجعیت لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے حق و صداقت اور عدل و انصاف ان کا خوگر
ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی سلاطین وقت کو ان کی شخصیت ناقابل ُبرداشت ہو جاتی
ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی یہی چیز ان کی موت کا موجب بھی بنتی ہے حضرت حسن عسکری رضی
اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت میں یہی چیز کار فرما تھی. معتمد باللہ عباسی خلیفہ کے
بھجوائے ہوئے زہر سے 8 ربیع الاوّل 260ھ میں آپ نے شہادت پائی اور اپنے والد
بزرگوار کی قبر کے پاس سامرا میں دفن ہوئے جہاں حضرت حسن عسکری کا روضہ مبارک آج
بھی زیارت گاہ خلائق بنا ہوا ہے۔ آپ کے بعد آپ کی زوجہ نے ام البنین کے فرزند کے
ہاں پناہ حاصل کی جو نسل در نسل سادات کی خدمت و معیت و نصرت اور اعوانیت میں
مشغول رہے۔
کوئی تبصرے نہیں: