یوم وصال (بمطابق ھجری تاریخ)فقیہ العصر ،استاذ العلماء حضرت قبلہ مفتی محمد امین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ
یوم وصال (بمطابق ھجری تاریخ)فقیہ العصر ،استاذ العلماء حضرت قبلہ مفتی
محمد امین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ
ولادت
مصنفِ آبِ کوثر فقیہ العصر المعروف درود شریف
والی سرکار خواجہ مفتی محمد امین نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1342ھ
،شعبان المعظم یکم مارچ 1921ء ، سوموار کے مبارک دن لاہور کے نواحی علاقے نوازش
آباد میں پیدا ہوئے۔
نام و نسب
آپ کا پیدائشی نام محمد امین بن الحاج غلام
محمد بن میاں غلام محی الدین رحمۃ اللہ علیہم تجویز کیا گیا۔
والدین
آپ کے والدگرامی کا نام الحاج غلام محمد تھا
۔جو کہ زمینداری کے ساتھ ساتھ نوازش آباد کے نواحی مسجد میں امامت کے فرائض
سرانجام دیتے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ محمد بی بی علیہاالرحمۃکی حیاتِ مبارکہ کابیشترحصہ
قرآن مجید پڑھتے،پڑھاتے گزرا۔آپ ایک پاک طینت،بلند ہمت و بلند کردار خاتون تھیں۔
آپ کے ادارے
مفتی محمد امین پاکستان کے ایک سنی عالم دین
تھے۔ جن کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ مفتی محمد امین کی وجہ شہرت ان کی کتاب آب کوثر
اور البرھان ہیں، اس کے علاوہ انھوں نے ایک تعلیمی ادارہ جامعہ امینیہ رضویہ قائم
کیا۔ انہوں نے کثیر تعداد میں کتب تحریر کیں اور بہت سے علما ان کے جامعہ سے فارغ
التحصیل ہوئے۔ انھوں نے ان گنت مساجد کے ساتھ ساتھ جامعہ امینیہ رضویہ محمد پورہ ،
جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی، جامعہ نورالامین ، لیاقت ٹاؤن، جامعہ زاھدیہ ،
رحمانیہ ٹاؤن، ادارہ تبلیغ الاسلام ، کھرڑیانوالہ کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کے نام
سے ایک دعوتی پلیٹ فارم قائم کیا۔
ابتدائی تعلیم
خواجہ فقیہ العصر نے ابتدائی تعلیم گھر پہ حاصل
کی ۔ اسکول کی تعلیم’’ پکی حویلی ‘‘ نامی گاؤںں میں ماسٹر عبدالرشید علیہ الرحمہ
سے حاصل کی۔ پھر شرقپور شریف مدرسہ میں درس نظامی کے اسباق شیخ الحدیث علامہ غلام
رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ سےشروع کیے ۔ یہاں سات سالہ کورس فقط تین سال میں مکمل کیا
اور دورہ حدیث شریف کیلئے 1367ھ بمطابق اگست 1948 کو لائلپور ، موجودہ فیصل آباد میں
حضرت قبلہ محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس حاضر
ہوۓ ۔ یہاں اتنی محبت ملی کہ یہیں کے ہورہے۔ جامعہ
رضویہ میں ہی افتاء نویسی کا آغاز کیا اور مفتی کا ٹائٹل پایا۔اسی دوران جامع مسجد
گلزارِ مدینہ محمد پورہ شریف میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دینے لگے۔
ازدواج
آپ 5 فروری 1953ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک
ہوئے۔ آپ کی زوجہ انتہائی متقی ،با وفا اور نیک خصلت تھیں۔ قبلہ فقیہ العصر کی
ہمرا ہی میں گھرداخل ہوئیں اور سب سے پہلے کلام یہ تھا:’’مجھے نماز قائم کرنی
ہے‘‘۔
بیعت
خواجہ فقیہ العصر کی بیعت اولیٰ للہ شریف ،
حضرت رابعہ خواجہ مقبول الرسول للہی قادری، بیعت ثانیہ حضرت قبلہ محدث اعظم
پاکستان مولانا سردار احمد چشتی جبکہ بیعت ثالثہ کوٹلی شریف ،خواجہ عالم ، خواجہ
محمد صادق صدیقی نقشبندی مجددی علیہم الرحمۃ کے دست ِ حق پرست پر ہوئی ۔محدث اعظم
پاکستان نے آپ کو خلافت سے بھی نوازا۔ البتہ آپ سنگیوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں
بیعت کرتے اور اسی سلسلہ شریف کے اسباق کی تلقین فرماتے۔
حجِ بیت اللہ
آپ نے تین مرتبہ 1955ء،1972ءاور1975ء میں حج بیت
اللہ کی سعادت حاصل کی۔ 1955ء میں آپ نے پہلا حج والدین کریمین کی معیت میں کیا۔
سیرت و کردار
آپ علم و عمل کا حسین امتزاج تھے۔آپ صاحب تقوی
و ورع ، مخلص و باوفا اور انتہا درجے کے بااخلاق
تھے ۔ آپ کی مجلس ہر قسم کے طمع، تصنع اور غیبت سے پاک ہوتی۔ حضرت تبلیغِ دین
کیلیے وعظ و نصیحت سے زیادہ کردار و عمل کو موثر خیال کرتے ۔ساتھیوں کی دلجوئی اور مدد کرنے میں پیش پیش رہتے ۔ آپ
نمود و نمائش اور ذاتی تشہیر کو سخت ناپسند رکھتے۔ آپ علماء سے بے حد محبت فرماتے۔ آپ کے قائم
کردہ ادارے سے ان گنت حفاظ اور علماء فارغ التحصیل ہوۓ۔ آپ عقائد کی پختگی پر بہت زور دیتے۔صحیح العقیدہ
سادات کو آنکھوں پر بٹھاتے۔ آپ خامشی کو پسند کرتے مگر خلافِ شرع کام برداشت نہ
کرتے۔ ٹخنوں سے نیچے پائنچے دیکھ کر جلال کا اظہار کرتے کہ تمہیں سنت کا پاس نہیں
؟ ہم نے آپ کو کسی مجلس میں ننگے سر نہ دیکھا۔ انتہائ علالت کے باوجود نماز تکبیر
اولی کے ساتھ ادا فرماتے۔ سفر حرمین کیلیے رات کا انتخاب کیا جاتا تاکہ نماز با
جماعت ادا ہوسکے۔
وصال باکمال
قبلہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے طویل علالت
کے بعد 3 جنوری 2018ء بمطابق 15 ربیع الثانی 1439ھ بروز بدھ بعد نمازِ فجر لاہور
کے ڈاکٹرز ہسپتال میں نفی اثبات کا ورد کرتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا اور مصنف
ِآبِ کو ثر والبرھان، صاحبِ کوثر سے جامِ کوثر پینے وطن اصلی کی جانب عازم
ہوئے۔حضرت فقیہ العصر کا جنازہ ،راضیۃً مرضیۃً کی صداؤں میں فیصل آباد کے مشہورِ
زمانہ دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں ادا کیا گیا ۔آپ کا جنازہ پاکستان کے بڑے جنازوں میں
سے ایک تھا۔محتاط انداز ے کے مطابق تقریباً ۵۰ ہزار لوگ تو جنازے سے آگے تھے۔ جنازہ پڑھانے کی
سعادت آپ کے فرزند ارجمند شیخ القرآن محمد سعید احمد اسعد حفظہ اللہ کے حصے میں آئی۔
تدفین
حضرت خواجہ فقیہ العصر کے جسدِحسن وعشق کو محمد
پورہ شریف ،فیصل آبادمیں مسجد گلزار مدینہ سے متصل ایک ذاتی مکان میں سپرد خاک کیا
گیا۔ جہاں آپ کا مزارِ پرانوار مرجع خلائق اور آنکھ والوں کیلیے لہلہاتا چمنستان
ہے۔
حوالہ جات
ابریشم ازمحمدعابدنعمان شامی
Reviewed by Rizwan Malik
on
اکتوبر 31, 2023
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: