سیدنا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
جابر بن عبد اللہ انصاری ،رحمت عالم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے قریبی اصحاب میں سے ایک تھے جن کا تعلق یثرب
(مدینۃ الرسول) سے تھا۔ عقبۂ ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ
پر بیعت کی۔ وہ کثیر الحدیث صحابی اور حدیث لوح کے راوی ہیں
سیدنا جابر انصاری ،امام عالی مقام سیدنا امام
حسین علیہ السلام کے مزار کے پہلے زائر ہیں۔ وہ (واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد) روز
اربعین کربلا پہنچے اور امام محمد باقر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا
سلام پہنچایا۔
نسب اور کنیت
جابر نام،ابو عبداللہ کنیت ،قبیلہ خزرج سے ہیں،
نسب نامہ یہ ہے،جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ، والدہ کا
نام نسیبہ تھا، جن کا سلسلۂ نسب حضرت جابرؓ کے آبائی سلسلہ میں زید بن حرام سے مل
جاتا ہے۔ سلمہ کی اولاد اگرچہ حرہ اور مسجد قبلتین تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن خاص بنو
حرام قبرستان اورایک چھوٹی مسجد کے درمیان آباد تھے۔ حضرت جابرؓ کے دادا (عمرو)
اپنے خاندان کے رئیس تھے، عین الارزق (ایک چشمہ ہے) جس کو مروان بن حکم نے اموی امیر
معاویہؓ کے عہد میں درست کرایا تھا، انہی کی ملکیت تھا، بنو سلمہ کے بعض حصے، قلعے
اور جابر بن عتیک کے قریب کے قلعے ان کے تحت و تصرف میں تھے۔ عمرو کے بعد یہ چیزیں
عبداللہ کے قبضہ میں آئیں، حضرت جابرؓ انہی عبداللہ کے فرزند ہیں جو تقریبا 611ء
(مطابق 34 عام الفیل) میں ہجرت سے 20 سال قبل تولد ہوئے تھے۔
جابر کے والد ہجرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم سے پہلے مسلمان ہوئے اور دوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر
میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
جابر کی کنیت ان کے بیٹوں کے ناموں کی مناسبت
سے مختلف تاریخی منابع میں مختلف ہے لیکن ان کی صحیح تر کنیت "ابو عبد
اللہ" مانی گئی ہے
جنگوں میں جابر کا کردار
مغازی اور جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے
معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں جابر کا کردار کچھ زيادہ بڑا نہ تھا۔ وہ ایک نوجوان مؤمن
تھے جو دوسرے مجاہدین کے ہمراہ بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کے رکاب میں لڑتے تھے اور بعد میں بعض غزوات کے وقائع نگار کا کردار ادا کیا۔
رسول اللہ کے ساتھ تعلق
بعض روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رویہ ہمیشہ شفقت آمیز رہا حضرت
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق بھی الفت اور محبت آمیز تھا۔ ایک دفعہ حضرت جابر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی عیات
کے لیے گئے اور حضرت جابر رضي اللہ تعالیٰ عنہ نےـ جو گویا اپنی تندرستی سے مایوس ہوچکے تھےـ بہنوں کے درمیان میں اپنے ترکے کی تقسیم کے
بارے میں سوالات پوچھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی
کرتے ہوئے انہیں طویل عمر کی خوشخبری دی اور ان کے سوال کے جواب میں ایک آیت نازل
ہوئی جو آیت کلالہ کے نام سے مشہور ہوئی
وفات
انہوں نے چورانوے سال کی عمر پائی اور 68 یا
78ھ میں وفات پائی۔
جابر عمر کے آخری سالوں میں ایک سال تک مکہ میں
بیت اللہ کی مجاورت میں مقیم رہے۔ اس دوران میں عطاء بن ابی رَباح اور عمرو بن دینار
سمیت تابعین کے بعض بزرگوں نے ان کا دیدار کیا۔ جابر عمر کے آخری برسوں میں نابینا
ہوئے اور مدینہ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔مِزّی نے جابر کے سال وفات کے بارے میں بعض
روایات نقل کی ہیں جن میں جابر کے سال وفات کے حوالے سے اختلاف سنہ 68 تا سنہ 79
ہجری تک ہے۔ بعض مؤرخین اور محدثین سے منقولہ روایت کے مطابق جابر بن عبداللہ
انصاری نے سنہ 78 میں، 94 سال کی عمر میں وفات پائی اور والی مدینہ ابان بن عثمان
نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
روایات کے مطابق انہیں حجاج بن یوسف نے زہر
دلوا کر شہید کیا تھا۔ انہیں بغداد کے قریب مدائن میں دریائے دجلہ کے قریب دفن کیا
گیا۔
حوالہ جات
بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص286؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ
دمشق، ج11، ص208، 211؛ قیس ابن حَبّان، مشاہیر علما الامصار و اعلام فقہا الاقطار۔
ابن عبد البرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220؛
ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص377.
؛ طبری، جامع طبری؛ و محمد بن طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن، آیہ
کے ذیل میں۔
ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج3، ص191ـ192.
مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص453ـ545.
نیزابن قتیبہ، المعارف، ص307.
Reviewed by Rizwan Malik
on
اکتوبر 31, 2023
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: