Subscribe Us

حضرت ذکوان بن عبد قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

حضرت ذکوان بن عبد قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ


ذکوان بن عبد قیس، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔ انصار میں وہ سب سے پہلے شخص ہیں، جو اسلام لائے تھے۔

نام و نسب

ذکوان بن عبد قیس بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن رزیق انصاری، زرقی۔ذکوان بن عبید بھی انہی کا نام ہے

کنیت

آپ کی کنیت ابو سعد ہے۔

اسلام

آپ اور حضرت اسعد بن زرارہ اکھٹے مکہ جا رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ کے متعلق سنا۔ آستانہ نبوت پر حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا اور پھر مدینہ واپس آ گئے۔ روایت ہے کہ دونوں بیعت عقبہ اولی اور بیعت عقبہ ثانیہ پر حاضر ہوئے تھے اور دیگر صحابہ کے ساتھ ہی مدینہ نہیں گئے اور مکہ میں ہی ٹھہر گئےاور رسول اللہ کے ساتھ ہجرت کی۔اس لیے آپ کو مہاجری اور انصاری کہا جاتا ہے۔


غزوات

آپ غزوہ بدر میں شریک اور غزوۂ احد میں مرتبۂ شہادت پر فائز المرام ہوئے۔ ابو الحکم بن اخنس بن شریق نے آپ پر حملہ آور ہو کر آپ کو شہید کیا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پروار کیا۔ یہ گھوڑے پر سوار تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تلوار اس کی ٹانگ پر لگی اور نصف ران سے اس کی ٹانگ کاٹ کر الگ کر دی۔ اور اسے گھوڑے سے گرا لیا اور اسے قتل کر کے جہنم رسید کیا۔


شہادت

ذکوان بن عبد قیس، ابو الحکم بن اخنس ثقفی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ حضرت علی نے بڑھ کر ابو الحکم بن اخنس ثقفی پر حملہ کیا اور اس کی آدھی ران کاٹ دی تھی اور پھر گھوڑے سے گرا کر ہلاک کر دیا تھا۔


حوالہ جات

کتاب: مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا، مصنف: مرحوم سید قاسم محمود، ص- 885

حضرت ذکوان بن عبد قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ذکوان بن عبد قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ Reviewed by Rizwan Malik on اکتوبر 25, 2023 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.