یوم پیدائش لائنس نائیک محمد محفوظ شہید
لانس
نائیک محمد محفوظ شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں پنڈ ملکاں (اب محفوظ آباد) میں 25
اکتوبر 1944 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے 25 اکتوبر 1962 کو پاک فوج میں شمولیت اختیار
کی۔ انیس سو اکہترکی جنگ کے وقت واہگہ اٹاری
سیکٹر
میں تعینات تھے۔
ولادت۔
لانس
نائیک محمد محفوظ شہید25اکتوبر 1944میں (گاؤں) پنڈ ملکاں ضلع راولپنڈی میں پیدا
ہوئے اب اس گاؤں کا نام محفوظ آباد رکھ دیا گیا ہے
خاندان۔
محمد محفوظ کی والدہ
بچپن ہی میں فوت ہوگئیں تھیں جبکہ والدنے 2003ء میں وفات پائی وہ دو بھائی اور دو
بہنیں پر مشتمل چار بہن بھائی تھے۔
شخصیت۔
،لائنس نائیک محمد محفوظ شہید بچپن ہی سے بہت
دلیر، باوقار، خودار پراعتماد شخصیت کے مالک تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں سے
حاصل کی بچپن ہی سے تیراکی اور کبڈی کا شوق تھا بہترین کبڈی کے حوالے سے ارد گرد
کے علاقوں میں جانے جاتے تھے کبڈی ٹیم کے کیپٹن تھے فوج میں آنے کاشوق اپنے دادا
گلزار خان کی کہانیوں سے ملا۔
فوج
میں شمولیت۔
25اکتوبر 1962ء میں
آرمی میں شمولیت اختیار کی اور مئی 1963ء 15پنجاب رجمنٹ میں (کوئٹہ)میں تعینات
ہوئے۔لائنس نائیک محمد محفوظ شہید کمپنی پلاٹون نمبر 3ایل ایم جی کے
فائرز(گنر)تھے،1971ء کی پاک بھارت جنگ میں 15پنجاب رجمنٹ انڈر 43 پنجاب رجمنٹ10ڈویژن
کا حصہ تھی جو لاہور واہگہ کے محاز پر تعینات تھی۔
شھادت کا واقعہ۔
17دسمبر کی رات پنجاب کی ایک کمپنی جس کا ہر اول پلاٹون 3تھی
محفوظ شہید اس کا حصہ تھے کو ”پل کنجری
پوسٹ“ گاؤں عطاری سیکٹر پر حملے کا حکم
ملا جو دشمن کے علاقہ تھا اور کچھ بلندی پر تھا دشمن کی ایک کمپنی اس پر متعین تھی
وہاں دشمن نے دفاع کے لیے بہت مضبوط موچہ بندی کررکھی تھی کچھ وجوہات کے باعث حملہ
اپنے مقررہ وقت سے کچھ دیر بعد کیا گیا، پاکستانی کمپنی جو اندھیرے میں محفوظ تھی
فائرنگ کرتے ہوئے۔
آگے
بڑھ رہی تھی پاکستانی پلاٹوں دشمن کے موچہ سے70گز دور تک پہنچ چکی تھی مگر صبح کی
روشنی پھیلتے ہی دشمن ہماری کمپنی پر کارگر فائر کرتا رہا دشمن کے توپ خانہ اور
گنوں کی فائرنگ اتنی شدید تھی کہ زرا سی حرکت کا دوسرا نام موت تھا دشمن نے پہلووں
اور سامنے سے ہر اول پلاٹون کو گھیر رکھا تھا اور مسلسل فائر نگ ہورہی تھی لائنس
نائیک محمد محفوظ نے ہمت نہ ہاری دشمن کی طرف فائر جاری رکھا اس دوران دشمن کا ایک
بم لائنس نائیک محمد محفوظ کے قریب پھٹا جس کے ٹکڑے ان کے جسم پرلگے جبکہ ٹانگیں
بھی شدید زخمی ہوگئیں ان کی گن بم کے گولہ کے پھٹنے کے باعث ناکارہ ہوچکی تھی
انہوں نے قریبی ہی ساتھی شہیدکی گن جو خالی پڑی تھی،لائنس نائیک محمد محفوظ رینگتے
ہوئے گئے اور گن اٹھا کر دشمن پر فائرنگ شروع کردی اس دوران انہوں نے دیکھا کہ
دشمن کی ایک گن ان کے مورچوں پر تباہ کن او ر موثر فائر کررہی ہے اور ان کے جوان تیزی
سے شہید ہو رہے ہیں وہ اسی طرف بڑھے اور دشمن کے مورچے سے تقریبا دس قدم دور کھڑے
ہوئے اور دشمن کے مورچے کی طرف دوڑے اس دوران دشمن نے ان کو دیکھ کر گولی چلائی جس
کے لگنے سے ان کی گن ہاتھ سے چھوٹ گئی مگر وہ بہادری سے دوڑتے ہوئے دشمن کے مورچہ
میں کود پڑے اور دشمن کے گنر کی گردن دبوچ لی جبکہ دشمن کے دیگر دو ساتھیوں نے ان
پر سنگینوں کے وار کیے مگر لائنس نائیک محمد محفوظ نے دشمن کے گنر کی گردن اس وقت
تک دبوچ کررکھی جب تک وہ جہنم واصل نہیں ہوگیا اس دوران سنگینوں کے زخموں کی تاب
نہ لاتے ہوئے انہوں نے بھی جام شہادت نوش کیا لائنس نائیک محمد محفوظ کے شہید ہونے
کے بعد بھی دشمن اپنے ساتھی کی گردن بامشکل لائنس نائیک محمد محفوظ کے آہنی ہاتھوں
کے شکنجوں سے آزاد کرا پائے۔
نشان حیدر۔
23مارچ 1972 ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے لائنس نائیک محمد
محفوظ شہید کو بعداز شہادت پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ”نشان حیدر“
سے نوازا گیا۔
Reviewed by Rizwan Malik
on
اکتوبر 26, 2023
Rating:

کوئی تبصرے نہیں: